16:96
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٍ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓا۟ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
Whatever you have will end, but what Allah has is lasting. And We will surely give those who were patient their reward according to the best of what they used to do.
— Saheeh International
.....................................................................
Maarif-ul-Quran
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٍ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓا۟ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
All Worldly Gains and States will Perish - Only their Outcome with Allah shall Remain
A casual look at the expression: مَا عِندَكُمْ (ma ` indakum: 'what is with you' meaning world gains) leads one to think of wealth and possessions only. My revered teacher, Maulana Sayyid Asghar Husain of Deoband, may the mercy of Allah be upon him, said that the word: مَا ma (what) is general lexically and there is nothing prohibiting us from taking it in a general sense, therefore, included under it are wealth and possessions of the present world as well as all states and matters that one experiences therein. These could be happiness and sorrow, pain and comfort, sickness and health, gain and loss or someone's friendship or enmity. These form part of it for all these are transitory and must perish. However, the after-effects of all these states and matters which are to bring reward or punishment on the Day of Judgment are destined to remain. So, any reckless pursuit of states and matters that must perish and to stake one's life and its energies on this altar by becoming negligent of the eternal reward and punishment is something no sane person should elect to do.
فی ظلال القرآن
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٍ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓا۟ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق (61 : 59) ” جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہوجانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہی باقی رہنے والا ہے “۔ قرآن کریم وفائے عہد کے لئے لوگوں کے عزم کو قوت دیتا ہے اور وفائے عہد کی راہ میں تکالیف اٹھانے کی ترغیب دیتا ہے اور ان تکالیف پر صبر کرنے والوں کے ساتھ اجر حسن کا وعدہ کرتا ہے۔
ولنجرزین الذین صبروا اجرھم باحسن ما کانوا یعملون (61 : 69) ” اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو ان کے اجر ، ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے “ ۔ اور اس سلسلے میں ان سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں ان کو معاف کردیں گے۔ پس جزاء میں صرف اعمال کا اچھا پہلو ملحوظ رہے گا۔
عمل اور جزاء کی مناسبت سے یہاں عمومی ضابطہ بتا دیا جاتا ہے۔
تفسیر بیان القرآن
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٍ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓا۟ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ہر نیکو کار شخص کے تمام اعمال ایک درجے کے نہیں ہوتے کوئی نیکی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے اور کوئی نسبتاً چھوٹے درجے کی۔ مگر جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجائیں گے ان کی اعلیٰ درجے کی نیکیوں کو سامنے رکھ کر ان کے اجر وثواب کا تعین کیا جائے گا۔
ابن كثير
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٍ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓا۟ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
"ما عندكم ينفد" أي يفرغ وينقضي فإنه إلى أجل معدود محصور مقدر متناه"وما عند الله باق" أي وثوابه لكم في الجنة باق لا انقطاع ولا نفاد له فإنه دائم لا يحول ولا يزول "ولنجزين الذين صبروا أجرهم بأحسن ما كانوا يعملون" قسم من الرب تعالى مؤكد باللام أنه يجازي الصابرين بأحسن أعمالهم أي ويتجاوز عن سيئها.
0 Comments